قران پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ جو تمہیں اچھی لگیں ان عورتوں سے نکاح کر لیا کرو (القرآن )
حدیث پاک میں آتا ہے کہ جس کا مفہوم ہے
"اے نوجوانو جب تم بالغ ہو جاؤ تو فورا نکاح کر لیا کرو کیونکہ یہ نظر میں حیا پیدا کرتی ہے اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرتی ہے- اگر تم میں سے کوئی شادی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھ لیا کرے- یہ روزے اس کی شہوت کو ختم کر دیا کریں گے-"
ماہرین کے مطابق شادی سے انسان کو جنسی آسودگی کے ساتھ ساتھ ذہنی سکوں بھی ملتا ہے اور غیر شادی شدہ لوگ شادی شدہ افراد کی نسبت 50 فیصد زیادہ بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں-
ایک اور حدیث پاک میں آتا ہے کہ "کنواری عورت سے شادی کرو کیونکہ کے وہ شیریں گفتار ہوتی ہے ، زیادہ بچے جنتی ہے اور تھوڑی چیز پر راضی ہو جاتی ہے"
مرد کی فطرت ہے کہ وہ عورت کو اس کے زہری حسن کی وجہ سے پسند کرتا ہے دوسرے الفاظ میں مرد کی جنسی خواھش عورت کے ظاہری خدو حال اور جسمانی خوبصورتی دیکھ کر ہے مچلتی ہے-
مرد عورت کو اس کی جسمانی اور زہری خوبصورتی کی وجہ سے پسند کرتا ہے بی شک ہر مرد کا معیار الگ الگ ہے لیکن بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے جبکہ عورت مرد کو اس کی زہری شکل و صورت کی وجہ سے پسند نہیں کرتی بلکہ عورتوں کے لئے مرد کا پیشہ یا کاروبار اور اس کی معاشرتی مقام کی کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے-
آج کے ماہرین نفسیات اور ماہرین جنسی امور کی باہمی راے ہے کے خوشگوار زندگی کے لئے ضروری ہے کہ مرد کو عورت کی کوئی ایک آدھ چیز ضرور پسند ہو-
ماہرین تو آج یہ بات کر رہے ہیں لکن ہمارا اسلام آج سے 1400 سال پہلے یہ بات کہ چکا ہے کہ شادی سے پہلے اگر ممکن ہو سکے تو لڑکے کو چاہیے کے ایک نظر عورت کو دیکھ لے اس سے نکاح کی پایداری میں مدد ملتی ہے-
ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ " جب تم میں سے کوئی مرد کسی عورت کو شادی کا پیغام بھیجے تو پھر اسے دیخننے میں کوئی گناہ نہیں بشرط یہ کہ وہ اس سے شادی کا ارادہ بھی رکھتا ہو اور ضروری بھی نہیں کہ اس عورت کو معلوم ہو کہ مجھے دیکھا جا رہا ہے" یعنی اگر سامنے دیکھنا ممکن نہ ہو سکے تو چھپ کر بھی دیکھ سکتے ہیں- تا کے مرد ذہنی طور پر اس عورت کی طرف راغب ہو جائے-
یورپ اور امریکا میں تقریباً ہر شادی محبّت کی شادی ہوتی ہے لکن وہاں طلاق کی شرح 70 سے 75 فیصد ہے- ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ شادی سے پہلے دونوں اپنی اپنی شخصیت کو بہت مثبت طریقے سے ایک دوسرے کے سامنے پیش کرتے ہیں اس لئے محبّت میں گرفتار ہو جاتے ہیں لیکن شادی کے بعد دونوں کے لئے اپنی اپنی منفی شخصیت کو چھپاے رکھنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ محبوب ہوتا تو انسان ہی ہے نا- اور جب منفی پہلو سامنے آتے ہیں تو دونو کا ایک دسرے کو برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور طلاق تک نوبت پوھنچ جاتی ہے-
دوسری طرف خاندان کی طرف سے تے کی گئی شادیوں کی ناکامی کی شرح بہت ہی کم ہے- یورپ ور امریکا کے مقابلے میں ہمارے ہاں طلاق کی شرح بہت ہے کم ہے- لیکن ان میں ایک قباحت ہے کے لڑکے لڑکی کی پسند کا خیال نہیں رکھا جاتا- اگر ہمارے دین کے مطابق لڑکے ور لڑکی کی پسند کا خیال رکھا جائے تو یہ شرح اور بھی کم ہو سکتی ہے- اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی شادی سے پہلے ایک دسرے کو دیکھ کر پسند کر لیں-
شادی کو نظم و ضبط سے چلانے میں جو چیز سب سے اھم ہے وہ یہ ہے کے گھر کا سربراہ دونوں میں سے کوئی ایک ہو اگر میاں بیوی دونو ہے برابر اور مساوی اختیارات رکھیں گے تو گھر بدنظمی کی شکار ہو جائے گا-
جدید ریسرچ کے مطابق مرد کو فطری طور پر عورت سے زیادہ سمجھ اور معاملہ فہمی عطا کی گئی ہے اس لئے اسلام نے مرد کو ہے گھر کا سربراہ بنایا ہے-
اگر میاں بیوی میں کوئی جھگڑا ہو جائے تو مرد کو چاہیے کے پہلے آرام سے بات کو سلجھانے کی کوشش کرے اگر پھر بھی جھگڑا حل نا ہو اور بیوی کہنا نا مانے تو اس کا بستر الگ کر دے اگر پھر بھی نا مانے تو اسلام مرد کو اختیار دیتا ہے کہ وہ عورت کو سزا دے سکتا ہے لیکن مار نہیں سکتا کہ اس کے جسم پی نشان آ جائے-
(یاد رہے کہ یورپ ور امریکا وغیرہ میں عورتیں مردوں پر ہاتھ اٹھاتی ہیں )
اگر شوہر بیوی کو بستر پر بلاے اور وہ نا اے تو فرشتے سری رات عورت پر لعنت بھیجتے رهتے ہیں-
اسی طرح مرد کو بھی چاہیے کہ بیوی کا خیال رکھے عورت کو ایک ماہ میں تقریباً دو سے تین دفعہ جنسی تعلق کی خواھش ہوتی ہے لیکن فطری شرم و حیا کی وجہ سے عورت اپنے منہ سے نہیں کہتی لیکن مختلف طریقوں سے اپنی خواھش کا اظہار ضرور کرتی ہے- شوھر کو چاہیے کے اپنی بیوی کی خواہشات کا خیال رکھے ورنہ عورت ہر وقت پریشان رہتی ہے جس کا اثر دونوں کی زندگی پر بھی پڑتا ہے اور ہر وقت لڑائی جھگڑے کی وجہ سے نوبت طلاق تک بھی پوھنچ جاتی ہے-
شادی کرتے وقت کچھ چیزوں کا لازمی خیال رکھنا رکھنا چاہیے کہ لڑکی کی حیض کی تاریخیں نا ہوں ورنہ میاں بیوی اپنی سہاگ رات کو بھرپور طریقے سے نہیں نبھا سکتے اور مرد اپنے شدید تناؤ کی وجہ سے چڑچڑا ہو جاتا ہے جس کا اثر ان کی باقی زندگی پر بھی پڑتا ہے-
اور شادی طے کرتے وقت یہ بھی دھیان میں رکھنا چاہیے کہ لڑکا اور لڑکی کسی بھی طرح سے ایک دوسرے سے کمتر نا ہوں- یعنی دونوں میں سے اگر ایک چوٹھے قد کا ہے اور دوسرا لمبے قد کا تو ایسے بچوں کی شادی مت کریں ورنہ ان میں سے کوئی بھی احساس کمتری کا شکار ہو سکتا ہے اور اس طرح پیار بھرا شادی کا گھر لڑائی جھگڑوں کا گھر بن جاتا ہے-
اور ایک اور اھم بات جو بہت ضروری ہے کہ میاں بیوی میں سے کسی ایک کا رنگ صاف ہونا چاہیے اس طرح ان کے بچے بھی صاف رنگ کے پیدا ہوں گے اور ماہرین کے مطابق بچے زیادہ تر اپنی ماں کی طرف سے فطرت لیتے ہیں یعنی فطرتاً ماں کی طرح ہوتے ہیں اس لئے شادی طے کرتے وقت لڑکی کی ذہانت وغیرہ کا بھی دھیان رکھنا چاہیے-
No comments:
Post a Comment